ابنا: ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت آل خلیفہ کی کال کوٹھریوں میں اٹھارہ سال سے کم کے چوراسی بچے اور نوجوان بد ترین زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔بحرین کی جمعیت وفاق ملی کی مرکزی کمیٹی کے رکن جلیل السید نے بحرینی بچوں کی گرفتاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک نے سن انیس سو اکیانوے میں بچوں کے حقوق کی محافظت کے بارے میں معاہدہ کیا تھا لیکن اس وقت بحرین میں آل خلیفہ کے موجودہ اعلی حکام اس معاہدے کو بڑی آسانی سے نظر انداز کرکے بچوں اور نوجوانوں کو گرفتار کرکے انہیں اپنے زندانوں میں مقید کررہے ہیں ۔بحرین کے ایک وکیل دعاء العم نے بھی بحرین میں بچوں اور نوجوانوں کے حقوق کی خلاف ورزی و پامالی اور ان پر ہونے والے مظالم کی طرف اشارہ کیا ہے دعاء العم نے المنار چینل سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بحرین میں اٹھارہ سال سے کم کے بچے اپنے حق کا دفاع کرنے والے وکیلوں کے بغیر گرفتار کئے جارہے ہیں اور یہ اقدام بچوں کے حقوق کا دفاع کرنے والے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بحرین کے قید خانوں میں بہت سے ایسے بچے قید ہیں جو موذی اور خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہیں لیکن داروغہ زندان ان کی طرف ذرہ برابر بھی توجہ نہیں دیتے بلکہ جان بوجھ کر ان کا علاج نہیں کرتے ہیں یہاں تک کہ انہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے کہ بچے اور نوجوان اپنی ہی دواؤں کا استعمال کریں ، اس واقعے سے بحرین کے عوام میں زبردست بے چینی پائی جارہی ہے اور بحرینی عوام اس کے خلاف اپنے رد عمل کا مسلسل اظہار کررہے ہیں ۔بحرین کی سب سے بڑی پارٹی وفاق ملی نے تمام اسلامی دھڑوں اور بچوں کے حقوق کا دفاع کرنے والے افراد سے مطالبہ کیا ہے کہ بحرین کی کال کوٹھریوں میں مقید بچوں کی رہائی کے لئۓ ٹھوس اقدامات کریں ۔گذشتہ چند دنوں قبل بھی جمعیت وفاق ملی کی کال پر ہزاروں افراد نے مظاہرہ کرکے بحرین کے سیاسی حالات میں اصلاحات اور تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے کے دوران عوام نے ملک کی عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام اور قیدیوں کے خلاف اپنے غیر عادلانہ احکامات جاری کرنے سے باز آجائے ۔آل خلیفہ کی جانب سے بچوں اورنوجوانوں کی گرفتاری تمام عالمی قوانین کے مطابق ایک غیر انسانی ، بچوں کے حقوق کے منافی اور ظالمانہ اقدام ہے اور آل خلیفہ کی شاہی حکومت تقریبا ڈیڑھ سال سے اپنے شہریوں خصوصا نوجوانوں اور بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی چلی آرہی ہے جب کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سلسلے ميں مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔بحرین میں آل خلیفہ کی آمریت کے خلاف گذشتہ اٹھارہ مہینوں سے احتجاجی تحریک چل رہی ہے لیکن آل خلیفہ کی حکومت اپنے مغربی اور عرب حامیوں کی حمایت و مدد کے سہارے نہ صرف عوام کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے بلکہ اس نے انسانیت سوز مظالم اور جرائم کا سلسلہ اور بھی تیز کردیا ہے۔بحر حال یہ مسلم ہے کہ اگر امریکہ اور برطانیہ بحرین کے بادشاہ کی حمایت نہ کرتے تو آل خلیفہ کی شاہی حکومت اس ملک کےعوامی سیلاب کے سامنے زیادہ دنوں تک نہیں ٹھہر پاتی ۔
.....
/169